28 مئی 2013 - 19:30
ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے میں پیشرف جاری

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے تہران پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر فراہم کرے گا، جو سرمائے کے بجائے خدمات کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔

ابنا: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی کے چیئرمین محمد یوسف کی صدارت میں ہوا، جس میں ایران پاکستان اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے ذریعے پچھہتر کروڑ مکعب فٹ گیس یومیہ درآمد کی جائے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ راستے میں آنے والے لوگوں کیلئے ایران سے بیس کروڑ مکعب فٹ اضافی گیس درآمد کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایران گیارہ سو پچاس کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے اور اس وقت پاکستانی سرحد سے ڈھائی سو کلومیٹر دور ہے یہ گیس پائپ لائن گوادر کے راستے سے پاکستان میں داخل ہوگی اور پاکستان اپنی حدود میں سات سو اکیاسی کلو میٹر پائپ لائن بچھائے گا۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے تہران پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر فراہم کرے گا، جو سرمائے کے بجائے خدمات کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں گیس پائپ لائن کے حوالے سے ابھی کام شروع نہیں ہوا جبکہ سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور وزارت خزانہ سے گارنٹی کی وصولی کے بعد زمین کی خریداری شروع کر دی جائے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تاپی گیس پائپ لائن پر بھی کام جاری ہے اور یہ منصوبہ دو ہزار سترہ میں مکمل ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲